ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات: کیا آپریشن بالاکوٹ سے منسلک ایک اور داؤ چلنے کی تیاری میں ہے مودی حکومت؟

لوک سبھا انتخابات: کیا آپریشن بالاکوٹ سے منسلک ایک اور داؤ چلنے کی تیاری میں ہے مودی حکومت؟

Tue, 05 Mar 2019 23:00:21    S.O. News Service

نئی دہلی،05 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) 26 فروری کو فضائیہ کی جانب سے جیش محمد کے ٹھکانوں پر کی گئی ایئر اسٹرائک کی تصاویر جاری کرنے کا مطالبہ تیز پکڑ رہا ہے۔اپوزیشن کے کئی خاص طور کانگریس کے کئی لیڈر اس کو لے کر ثبوت مانگ رہے ہیں۔سوال اس بات کا ہے کہ اگر حکومت کے پاس ایسے کسی طرح کے ثبوت ہیں تو ان کو جاری کیوں نہیں کر رہی ہے۔پتہ چلا ہے کہ دو الگ الگ ذرائع سے حکومت کی طرف سے لی گئیں تصاویر اس بات کو ثابت کر سکتی ہیں کہ اسپائس 2000 گلائیڈ بموں نے 5 مختلف ڈھانچے کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے بالاکوٹ کے قریب واقع بسيا ٹاؤن کے مغرب میں واقع تھے،ان ڈھانچے کی چھتوں پر چھوٹے سوراخ اسرائیلی میں بنے ان بموں کے انٹری پوائنٹ کی عکاسی کرتے ہیں،اگرچہ یہ بم دھماکے ہونے سے پہلے عمارتوں، بنکروں اور شیلٹرو کو الگ کرکے اندر گھسنے کے لئے ڈیزائن نہیں کئے گئے ہیں۔اسپائس 2000 کو ’ڈيکیپٹنگ ویپن‘ کہا جاتا ہے جسے درست حملے کے ذریعے دشمن کی قیادت کو ختم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے،استعمال کئے گئے کچھ اسپائس 2000 شاید اس ڈھانچے کو پوری طرح نہیں گرا پائے جس پر وہ گرے،جیسا کہ پہلے بھی رپورٹ کی ہے، ہندوستانی فضائیہ کے کچھ میراج 2000 لڑاکا طیارے کنٹرول لائن پار کر اس بلندی تک گئے جہاں جہاز میں لگے نظام اسپائس 2000 گلائیڈ بم کو الیکٹرانک طریقے سے ریلیز کر دیتے۔وہیں اس حملے میں کتنے دہشت گرد مارے گئے ہیں اس پر زیادہ تنازعہ چل رہا ہے،بی جے پی صدر امت شاہ جہاں 250 دہشت گردوں کے مارے جانے کی بات کہہ رہے ہیں وہیں فضائیہ نے ایسی کسی بھی تعداد کی تصدیق کرنے سے انکار دیا ہے،اگرچہ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق دی نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن (این ٹی آراو) کا دعوی ہے کہ فضائیہ کے حملوں سے ٹھیک پہلے جیش محمد کے کیمپ کے ارد گرد 300 سے زیادہ موبائل فون فعال تھے،ان ساری باتوں کے درمیان کئی نوجوت سنگھ سدھو جیسے بیان دے کر اپنی ہی پارٹی کی فضیحت کرانے میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔سدھو نے پوچھا ہے کہ دہشت گرد مارنے گئے تھے یا پھر درخت اکھاڑے۔وہیں کانگریس سے ایک اورلیڈر کپل سبل بھی پوچھا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا اسٹرائک پر سوال اٹھا رہا ہے حکومت کو اس ثبوت دینے چاہئے۔سوال اس بات ہے کہ مودی حکومت ایئر اسٹرائیک کے ثبوت کیوں نہیں جاری کر رہی ہے،کیونکہ اسی طرح سال 2016 میں ہوئی فوج کے جوانوں کی جانب سے کی گئی سرجیکل اسٹرئیک کے ثبوتوں کو لے کر بھی خوب تنازعہ ہوا تھا اور بعد میں مودی حکومت کی رضامندی سے ثبوت جاری کئے گئے تھے۔ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت آپریشن بالاکوٹ کے مسئلے کو گرمائے رکھنا چاہتی ہے کیونکہ حزب اختلاف کے لیڈر جتنا ثبوت مانگیں گے اتنی ہی بیان بازی تیز ہوگی اور اس کا فائدہ بی جے پی حکومت کو لوک سبھا انتخابات میں بھی مل سکتا ہے،ہو سکتا ہے کہ مودی حکومت لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے کوئی فوٹیج جاری کر دے۔


Share: